راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

بابا اور برفی

جب بھی برفی ملے ہے کھانے کو
ذائقوں کے سفر پہ جاؤں نکل
میں ہوں چھوٹا سا، اور بھائی مرا
دونوں بیٹھے ہیں ایک قصبے میں
ایک بازار ہے یہ قصبے کا
جس میں دونوں طرف ہیں دوکانیں
جن میں دنیا جہاں کی چیزیں ہیں
میرے ہاتھوں میں خاکی کاغذ ہے
جس کے اندر ہے برفی کھوئے کی
میرے بابا نے لے کے دی تھی جو
جس کی خوشبو ابھی ہے نتھنوں میں
جس کی لذت ابھی زباں پر ہے
ایک نغمہ فضا میں گونج رہا
گانے والے ہیں جس کے مہدی حسن
بول جس کے مری سماعت میں
گاہے گاہے سنائی دیتے ہیں
(نعمتوں کو جو بانٹتا تھا خدا ۔۔۔۔ )
میرے بابا، وہ نغمہ اور برفی
میرے بیتے دنوں کا قصہ ہیں
میرے جیتے دنوں کا قصہ ہیں

راشد ڈوگر