چلو یہ مان لیتا ہوں تمہارا کچھ نہیں ہوں میں
تو کیوں بے چین رہتے ہو؟ خدارا کچھ نہیں ہوں میں
کوئی جلوہ تھا سچ مچ کا یا کوئی خواب تھا میرا
جو پوچھا کون ہو جی تم؟ پکارا کچھ نہیں ہوں میں
میں پہلی بار یہ سمجھا کہ یہ آنکھوں کا دھوکا ہے
دوبارہ آئینہ دیکھا، دوبارہ کچھ نہیں ہُوں میں
وہ ممتا کی نگاہیں تھیں جو سب کچھ دیکھ لیتی تھیں
کہ جگنو چاند یا کوئی ستارا، کچھ نہیں ہُوں میں
کبھی تو یہ یقیں ٹھہرے، مرے ہونے سے سب کچھ ہے
کبھی لگتا کہ ہُوں میں وہم سارا، کچھ نہیں ہوں میں
بھنور میں ڈوبتے کا میں سہارا ہو نہیں سکتا
کوئی کشتی نہ ہُوں کوئی کنارا، کچھ نہیں ہُوں میں
نہ خود کو آج تک پہچان پایا، کون ہے راشد؟
لحد میں خاک جاؤں گا اتارا؟ کچھ نہیں ہُوں میں
راشد ڈوگر