راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

‏چلو یہ مان لیتا ہوں تمہارا کچھ نہیں ہوں میں

‏چلو یہ مان لیتا ہوں تمہارا کچھ نہیں ہوں میں
‏تو کیوں بے چین رہتے ہو؟ خدارا کچھ نہیں ہوں میں
‏کوئی جلوہ تھا سچ مچ کا یا کوئی خواب تھا میرا
‏جو پوچھا کون ہو جی تم؟ پکارا کچھ نہیں ہوں میں
‏ میں پہلی بار یہ سمجھا کہ یہ آنکھوں کا دھوکا ہے
‏دوبارہ آئینہ دیکھا، دوبارہ کچھ نہیں ہُوں میں
‏وہ ممتا کی نگاہیں تھیں جو سب کچھ دیکھ لیتی تھیں
‏کہ جگنو چاند یا کوئی ستارا، کچھ نہیں ہُوں میں
‏کبھی تو یہ یقیں ٹھہرے، مرے ہونے سے سب کچھ ہے
‏کبھی لگتا کہ ہُوں میں وہم سارا، کچھ نہیں ہوں میں
‏بھنور میں ڈوبتے کا میں سہارا ہو نہیں سکتا
‏کوئی کشتی نہ ہُوں کوئی کنارا، کچھ نہیں ہُوں میں
‏ نہ خود کو آج تک پہچان پایا، کون ہے راشد؟
‏لحد میں خاک جاؤں گا اتارا؟ کچھ نہیں ہُوں میں

راشد ڈوگر