اپنی آنکھیں نہ دیکھیں چہرے کو
سب چراغوں تلے اندھیرا ہے
سارے سِینوں میں رات بستی ہے
جو میسّر ہو کوئی آئینہ
جو چراغوں تلے چراغ جلیں
اور سِینے سے اک نظر گُزرے
کسی روشن ضمیر انساں کی
تو نگاہوں کو خود کے درشن ہوں
تو چراغوں کے پیندے روشن ہوں
اور تاباں سبھی کے باطن ہوں
راشد ڈوگر