دِل
خدائی راز ہے یہ دِل
ادائے ناز سے بِسمِل
کہ ذکرِ یار سے کامِل
جفائے کار میں شاِمل
کسی کی یاد سے جھِلمِل
انوکھے دیس کا ساحِل
کہ چشمِ عشق کا یہ تِل
خودی لیلیٰ خودی محمِل
سدا تنہائی پر مائِل
سجائے درد کی محفل
کہ اپنا آپ ہی حاصِل
ہے اپنی آپ ہی منزِل
راشد ڈوگر