دکھ کی رات میں سکھ کا سورج جَڑ جائے
ان کی آنکھ جو میری آنکھ سے لڑ جائے
ان کے آنے سے آئے سرشاری سی
وہ جائیں تو جینا مشکل پڑ جائے
وہ ہنس دیں تو رنگ برنگے پھول کھلیں
جو روٹھیں تو جھٹ پٹ ہو پت جھڑ جائے
جیون کیا ہے؟ آتی جاتی سانسیں ہیں
آخر کو تھم سانسوں کا جھکّڑ جائے
اشکوں سے تب سارا دامن جھل تھل ہو
من کا بادل جب جب ضد پر اڑ جائے
بہہ لینے دو، بہتا پانی دریا ہے
رک جائے تو بن یہ اک جوہڑ جائے
طعنے ترکش ہیں زہریلے تیروں کے
نازک دل میں کوئی تیر نہ گَڑ جائے
راشد ڈوگر