غم کا قصہ نہ کبھی ہم سے سنایا جاتا
ان کے پہلو میں اگر یوں نہ بٹھایا جاتا
کوئی باطل ہو تو پلکوں پہ اٹھا لو اس کو
کہ یہاں سچ کو ہے سولی پہ چڑھایا جاتا
یاں سے جا کر بھی نہیں ہم کہیں جانے والے
جان لے کر بھی نہیں عشق مٹایا جاتا
میرے دل کو ہے کسی یاد نے گھیرا ایسے
جیسے ہالے سے کوئی چاند سجایا جاتا
مہک اس کی ہے مرے خُون میں دوڑے جاتی
لمس اس کا ہے مرے من میں مِلایا جاتا
میری سوچیں ہیں مرے جسم پہ طاری رہتیں
میرے باطن میں کوئی گیت ہے گایا جاتا
راشد ڈوگر