راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

گو پھول یہاں کم ہیں، مگر خار بہت ہیں

گو پھول یہاں کم ہیں، مگر خار بہت ہیں
رنگین لباسی کو یہ آزار بہت ہیں
میں اپنی جگہ چُپ ہوں کہ مکار نہیں ہوں
وہ اپنے تئیں خوش ہیں کہ عیار بہت ہیں
عشاق بہت سادہ ہیں، تجار فریبی
نادان یہاں تھوڑے ہیں، ہشیار بہت ہیں
انکار نہیں ہے کہ ہمیں پیار نہیں ہے
اقرار نہیں کرتے کہ خوددار بہت ہیں
امکان کی حد کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا
انسان کے مٹ جانے کے آثار بہت ہیں
اللہ کی رحمت ہے یہ چلتی ہوئی سانسیں
ورنہ تو حقیقت ہے کہ لاچار بہت ہیں

راشد ڈوگر