راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

جنگل کا مور

‏جنگل میں اک ناچا مور
‏جنگل میں تھا شور ہی شور
پتّوں کی تھیں سائیں سائیں
‏کوَّں کی تھیں کائیں کائیں
گیدڑ کی تھی چیخ پُکار
‏اُلّو کی تھی سوچ بچار
بندر، بھالُو، لگّڑ بھگّے
‏مینڈک، جھینگر، مچھر، کیڑے
مگر مچھ ، دریائی گھوڑے
‏ہاتھی ، ہرنی، شیر اور چِیتے
مگن تھے سارے اپنی دُھن میں
‏مور کو دیکھیں کس کی آنکھیں؟
ناچتے ناچتے چُور ہوا وہ
‏چُور ہوا، رنجُور ہوا وہ
اس کے پیر تھے لہُو لہان
‏تھک کر اُس نے دے دی جان
جنگل میں تھا شور ہی شور
‏دیکھا کس نے ناچتا مور؟

راشد ڈوگر