جنگل میں اک ناچا مور
جنگل میں تھا شور ہی شور
پتّوں کی تھیں سائیں سائیں
کوَّں کی تھیں کائیں کائیں
گیدڑ کی تھی چیخ پُکار
اُلّو کی تھی سوچ بچار
بندر، بھالُو، لگّڑ بھگّے
مینڈک، جھینگر، مچھر، کیڑے
مگر مچھ ، دریائی گھوڑے
ہاتھی ، ہرنی، شیر اور چِیتے
مگن تھے سارے اپنی دُھن میں
مور کو دیکھیں کس کی آنکھیں؟
ناچتے ناچتے چُور ہوا وہ
چُور ہوا، رنجُور ہوا وہ
اس کے پیر تھے لہُو لہان
تھک کر اُس نے دے دی جان
جنگل میں تھا شور ہی شور
دیکھا کس نے ناچتا مور؟
راشد ڈوگر