کہانی کے اندر بھی ہے اک کہانی
جوانی کے باطن میں ہے اک جوانی
عجب ہے کہ مرنے سے پھر جی اٹھے ہیں
کہ فانی کے پہلو میں تھی جاودانی
خوشی سے بھی آئے اداسی کی خوشبو
دو غم مل کے بنتے ہیں خوشیوں کے بانی
بجے رو کے باجا ، ہنسیں سن کے آنسو
نئی ہے ابھی جو، وہ کل ہے پرانی
جو سرگم کی لہروں پہ غم تیرتا ہے
تو درد و الم ہیں جنم کی نشانی
کسی کو ڈبوئے کسی کو جِلائے
سو رنگوں کا مظہر ہے بے رنگ پانی
تغیر کے دھاگے سے ہستی سِلی ہے
یہی تانا بانا بُنے زندگانی
راشد ڈوگر