کہنے کو چند ہاتھ سے بڑھ کر نہیں ہُوں مَیں
باطن میں کائنات سے کم تر نہیں ہُوں مَیں
اے آفتاب ! گرمئِ عشقِ حبیب میں
تُجھ سے سِوا ہوں، تیرے برابر نہیں ہُوں مَیں
تاریکیوں کے درمیاں جلتا ہوا چراغ
راتوں کی داستان ہوں، دن بھر نہیں ہُوں مَیں
اپنے ہی حُسن کے لئے خود ہی ہُوا حجاب
جانے سے جاودان ہوں، ہو کر نہیں ہُوں مَیں
دیکھے یہ صبح و شام، ہزاروں طرح کے رنگ
افسوس! اپنی آنکھ کا منظر نہیں ہُوں مَیں
دل میں بسا کے اُن کو ، اُنہی کو دیا یہ دل
ظاہر ضرور ہُوں مگر اندر نہیں ہُوں مَیں
راشد ڈوگر