راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

خوشبُو‬⁩

‏تُحفہ مجھ کو ملا ہے ⁧‫خوشبُو‬⁩ کا
‏ہاتھ آیا چراغ جادُو کا
‏جس کو چھوتے ہی روشنی سی ہو
‏جیسے شیشے میں چاندنی سی ہو
‏دینے والے کا پیار ہو جیسے
‏اک مسلسل خمار ہو جیسے
‏جو خیالوں کو برق رو کر دے
‏اور صدیوں کو سامنے دھر دے
‏کوئی خوشبو جو سونگھتا ہُوں میں
‏ہو کے بے خود ، یہ سوچتا ہُوں میں
‏ایک خوشبو تھی بند کُرتے میں
‏روشنی لوٹ آئی لمحے میں
‏کوئی تو پھول سا سراپا ہے
‏عطر جس کا جہاں میں پھیلا ہے

راشد ڈوگر