مجھے یاد ہے وہ ملاقات پہلی
جو فرمائی تُو نے وہی بات پہلی
"نرے خام ہو اور پر تولتے ہو
کہ ساحل سے موج و بھنور تولتے ہو
کتابوں میں چاہت کی بُو سونگھتے ہو
کناروں پہ لعل و گہر ڈھونڈتے ہو
ابھی عشق کے تم نے قصے سُنے ہیں
ابھی راہ سے پھُول پتّے چُنے ہیں
رموزِ وفا سے شناسا نہیں ہو
تماشائی ہو پر تماشا نہیں ہو
چلے جاؤ واپس کہ عاشق نہیں تم
تجسس سے پُر اور حیرت میں ہو گم
چلے آنا تب تم کو ٹھوکر لگی جب
چلے آنا جب دل پہ دستک ہوئی تب “
چلا آیا میں جو ابھی بے سبب تھا
یونہی منحصر گردشِ روز و شب تھا
اسی کشمکش میں گزرتے گئے دن
کہ جیون کے گیہوں کترتے گئے دن
کسی دن اچانک کہیں جا گرا میں
اٹھا تو کسی اور عالم میں تھا میں
وہاں اپنی سرحد سے باہر کھڑا تھا
میں کون اور کیوں ہُوں، کھڑا سوچتا تھا
جہاں تھم گیا تھا، زماں تھم گیا تھا
کسی ایک نقطے پہ دل جم گیا تھا
زمین و زمان و زمن کس لئے ہیں؟
یہ گہوارے ، سہرے ، کفن ، کس لئے ہیں؟
یہ سانسوں کے زہریلے پھن کس لئے ہیں؟
جو مرنا ہے تو سب جتن کس لئے ہیں؟
نگاہیں ملا کر مجھے وہ بتا دے
مجھے کیوں بنایا تھا سمجھا ذرا دے
وہ لمحات تھے سارے صدیوں پہ بھاری
کہ ہستی تھی دانہ تو سوچیں تھی چکّی
میں اپنے ہی گرداب میں آ گِرا تھا
جہاں کوئی کشتی نہ تھا کوئی تنکا
اسی جاں کنی میں کئی سال گزرے
کئی ماضی گزرے کئی حال گزرے
اچانک ہی اک رات عالم جدا تھا
کہ خود کو سپردِ خدا کردیا تھا
نگاہوں سے جیسے کہ دھند چھٹ گئی تھی
ہر اک شے پہ اس کی حقیقت لکھی تھی
وہ دنیا نئی تھی زمانہ نیا تھا
نیا تھا پرانا، پرانا نیا تھا
نئی چال سے تب روانہ ہوا میں
اسی حال میں آکے تم سے ملا میں
اسی روز سے میرے ہمراز ٹھہرے
کہ استاد ٹھہرے تو دم ساز ٹھہرے
تھا انگلی پکڑ پھر سے چلنا سکھایا
نئے آسمانوں پہ اڑنا سکھایا
ہو اب تم کسی اور عالم کے باسی
کسی طَور جاتی نہیں یہ اداسی
تصور میں لیکن ہو تم ساتھ میرے
مرے دل کو رکھے تری یاد گھیرے
مرے پاس تیری نشانی یہی ہے
کہانی نہیں یہ، کہانی یہی ہے
راشد ڈوگر