راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

‏کسی کے چہرے پہ چاند چمکے، چراغ جلتی شہاب آنکھیں

‏کسی کے چہرے پہ چاند چمکے، چراغ جلتی شہاب آنکھیں
‏کسی کے دیکھے ہیں یار میں نے گلاب ہونٹ اورشراب آنکھیں
‏سحاب جیسی لطیف زلفیں، ہلال کا ہیں گمان ابرو
‏ہے خوب صورت شباب ان کا تو خواب جیسی جناب آنکھیں
‏وہ چال جیسے ہے چلتی ندیا، سکون جیسے ہو ٹھہرا پانی
‏جمال جیسے کہ گلستاں ہو، جلال میں ہیں عتاب آنکھیں
‏وڈیر لہجہ ہے سندھ جیسا، دلیر شوکت ہے ستلجوں سی
‏جو راوی جیسی رواں ہیں باتیں، چناب جیسی نواب آنکھیں
‏بہار جیسے جوان بازو، چنار جیسی اٹھان قامت
‏ستار جیسی وہ خامشی ہے،کہانی کہتی کتاب آنکھیں

راشد ڈوگر