کسی کے چہرے پہ چاند چمکے، چراغ جلتی شہاب آنکھیں
کسی کے دیکھے ہیں یار میں نے گلاب ہونٹ اورشراب آنکھیں
سحاب جیسی لطیف زلفیں، ہلال کا ہیں گمان ابرو
ہے خوب صورت شباب ان کا تو خواب جیسی جناب آنکھیں
وہ چال جیسے ہے چلتی ندیا، سکون جیسے ہو ٹھہرا پانی
جمال جیسے کہ گلستاں ہو، جلال میں ہیں عتاب آنکھیں
وڈیر لہجہ ہے سندھ جیسا، دلیر شوکت ہے ستلجوں سی
جو راوی جیسی رواں ہیں باتیں، چناب جیسی نواب آنکھیں
بہار جیسے جوان بازو، چنار جیسی اٹھان قامت
ستار جیسی وہ خامشی ہے،کہانی کہتی کتاب آنکھیں
راشد ڈوگر