سلسلہ محبت کا
آرزو سے قائم ہے
رابطہ محبت کی
اک دلیل ہوتا ہے
پھر یہ رابطہ چاہے
گفتگو کا نہ بھی ہو
ہاں مگر تخیل میں
خوب ہوتا رہتا ہے
جب تلک محبت ہے
یاد زندہ رہتی ہے
جب تلک تصور ہے
پریت بڑھتی رہتی ہے
خیال سے جو اوجھل ہو
ختم وہ محبت ہے
یہ بھی اک حقیقت ہے
عاشقی کو دنیا میں
عیب جانا جاتا ہے
اس لئے تو اکثر ہی
پیار چاہے ہو بھی تو
صاف مُکر جاتے ہیں
مان جانے والوں کو
لوگ چھوڑ دیتے ہیں
پیار کرنے والوں کو
توڑ پھوڑ دیتے ہیں
مجھ سے گر جو پوچھو تو
پیار ایک ہوّا ہے
ہاتھ جو نہیں آتا
روپ جو بدلتا ہے
راشد ڈوگر