مرے سوال پہ لہجہ بدل لیا اس نے
سفر کے درمیاں رستہ بدل لیا اس نے
کہا نہیں تھا کہ اک دن بدل کے چھوڑے گا؟
بدل کے چھوڑ دیا، جا بدل لیا اس نے
وہ دشمنی کی جگہ، دوستی سے مارے گا
بہ احتیاط! کہ جُبَّہ بدل لیا اس نے
یاں ایک یہ ہے کہ اب تک وہیں پہ ٹھہرا ہے
واں ایک وہ ہے کہ کیا کیا بدل لیا اس نے
عجیب بات نہیں اس نے دوست بدلے ہیں
غضب تو یہ ہے کہ ہم سا بدل لیا اس نے
کسی کے پاس کسی دل پہ اختیار نہیں
کبھی سُنا ہے کہ چاہا بدل لیا اس نے؟
عدو جو سامنے تھا، اب صفوں کے اندر ہے
شکست دیکھ کے، فتنہ بدل لیا اس نے
راشد ڈوگر