بادلوں سے پرے ایک تصویر ہے
اُن خدوخال کی دل پہ تحریر ہے
جو سراپائے ناز و ادا، دوستو
جو تَنَزُّل سے نا آشنا، دوستو
جس کی آنکھوں میں خوابوں کے رنگیں دیے
جس کے ہونٹوں کو چھو کر ہنسی بھی ہنسے
جس کی زلفوں کی لہروں میں دل غوطہ زن
جس کی روشن جبیں، جیسے کوئی کرن
یہ جو تصویر ہے، گویا تقدیر ہے
سارے رنج و الم کی یہ اکسیر ہے
جو نگاہوں کا رزق اور دل کا سُکوں
جو فنونِ لطیفہ کا سارا فُسُوں
ایسی تصویر کا ہے مُصَوَّر کوئی
ہے تَصَوُّر، مُصَوَّر کے ہَم سَر کوئی ؟
راشد ڈوگر