راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

‏میں ہُوں خاک و خوں سے بُنا گیا، یہ سُنا ہے مَیں ہُوں چُنا گیا

‏میں ہُوں خاک و خوں سے بُنا گیا، یہ سُنا ہے مَیں ہُوں چُنا گیا
‏میں ہُوں آنسوؤں سے سَنا ہوا، میں ہُوں ٹھوکروں سے دُھنا گیا
‏میں ہُوں ناز جو نہ سہا گیا، میں ہُوں راز جو کہ چُھپا رہا
‏ہُوں وہ ساز جو کہ چِھڑا نہیں ، میں وہ راگ جو نہ سُنا گیا
‏میں کہ کل کے وعدے پہ مر مٹا، میں کہ پل سے پہلے ہی پِل پڑا
‏میں ہُوں بند ریشمی جال میں، جو ہے میرے گرد بُنا گیا
‏ میں کہ مستعار کی زندگی ،کوئی کھیل یا کہ ہُوں دل لگی
‏یہ ادھار میں نہ چکا سکا بھلے سُود سو سو گُنا گیا
‏بڑی خواہشوں سے اٹا ہوا، کئی حسرتوں سے کٹا ہوا
‏اسی دُھن پہ دل ہے ڈٹا ہوا، جو ازل میں کوئی سُنا گیا

راشد ڈوگر