میں ہُوں خاک و خوں سے بُنا گیا، یہ سُنا ہے مَیں ہُوں چُنا گیا
میں ہُوں آنسوؤں سے سَنا ہوا، میں ہُوں ٹھوکروں سے دُھنا گیا
میں ہُوں ناز جو نہ سہا گیا، میں ہُوں راز جو کہ چُھپا رہا
ہُوں وہ ساز جو کہ چِھڑا نہیں ، میں وہ راگ جو نہ سُنا گیا
میں کہ کل کے وعدے پہ مر مٹا، میں کہ پل سے پہلے ہی پِل پڑا
میں ہُوں بند ریشمی جال میں، جو ہے میرے گرد بُنا گیا
میں کہ مستعار کی زندگی ،کوئی کھیل یا کہ ہُوں دل لگی
یہ ادھار میں نہ چکا سکا بھلے سُود سو سو گُنا گیا
بڑی خواہشوں سے اٹا ہوا، کئی حسرتوں سے کٹا ہوا
اسی دُھن پہ دل ہے ڈٹا ہوا، جو ازل میں کوئی سُنا گیا
راشد ڈوگر