ایک دن زمانے نے
مجھ کو روکا اور بولا
رب نے قسم کھائی ہے
سارے تم خسارے میں
تیرے جیسے کھربوں ہیں
جو جہاں میں آئے تھے
جو یہاں ہی رہتے تھے
تیرے جیسی آنکھیں تھیں
تیرے جیسے سپنے تھے
تیرے دل سی دھڑکن تھی
تیرے جیسی سوچیں تھیں
سب سے میں نے نمٹا ہے
سب کو میں نے نِگلا ہے
تجھ کو بھی مٹا دوں گا
زیست کی سزا دوں گا "
جب وہ کہہ چکا سب یہ
بولا میں کہ "سُن اب یہ
میری اُنﷺ سے نسبت ہے
تجھ سے ماورا ہیں جوﷺ
میرا آسرا ہیں وہﷺ"
سُن کے یہ زماں بولا
"میں بھی تو انہیﷺ کا ہوں
جنﷺ کا امتی ہے تو
آؤ مل کے بیٹھیں ہم
اور کرلیں باتیں ہم
اُنﷺ کے نوری چہرے کی
جس سے میں بھی روشن ہوں
تیرا دل بھی جھلمل ہے
راشد ڈوگر