رات اور پھر اس پہ تیری یاد بھی ہے
دل کہ ہے برباد اور آباد بھی ہے
چاند ہے یا ہے کوئی ارمان نکلا
چاندنی ہے اور کوئی افتاد بھی ہے
ایک تو یہ حکم ہے حد میں رہوں میں
اور اس پر شعر کا ارشاد بھی ہے
ہاتھ نے چھوڑا ہے اور آنکھوں نے جکڑا
قید میں بھی ہے مگر آزاد بھی ہے
ساتھ بھی ہے اور مجھ سے دور بھی ہے
خواب جیسا ہے ، مرا ہمزاد بھی ہے
بے رخی سے مار دے، چُھو کر جِلائے
وہ مسیحا بھی ہے اور جلاد بھی ہے
اس زمانے سے عجب رشتہ ہے میرا
گو کہ دشمن ہے ، مگر استاد بھی ہے
راشد ڈوگر