راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

رباعیات

‏باطل ہے مقابل؟ رہے بسمِ اللّٰہ
حق قائم و دائم ہے، بِإِذْنِ اللّٰہ
‏ ہے خوف کسی کا نہ کوئی حُزن و ملال
لا حَوْلَ وَلا قوُّةَ اِلّا اللّٰہ
----------------
‏کل ایک ستارہ تھا کہ جُھلسا دیکھا
‏ اور ایک سمندر تھا کہ ڈُوبا دیکھا
کل ایک کہانی تھی کہ مِٹتی دیکھی
اور ایک تماشا تھا کہ تنہا دیکھا
----------------
‏وہ شاملِ محفل تو ہے، لیکن چپ ہے
کچھ کہنے پہ مائل تو ہے، لیکن چپ ہے
کیا کیجیے اب ایسی مسیحائی کا؟
وہ واقفِ مشکل تو ہے ، لیکن چپ ہے
-------------
گمان و یقیں
اکثر ہی یہ سوچوں میں کہِیں ہوں کہ نہیں
میں اور کہِیں ہُوں کہ یہِیں ہُوں، کہ نہیں
اس بات کا تو مجھ کو یقیں ہے، کہ تُو ہے
اس بات کا ادراک نہیں، ہُوں کہ نہیں
--------------
حسرتِ دل کہ ملیں حضرتِ دِل
اُس دل میں کئی راز نہاں رہتے ہیں
سُنتے ہیں کہ "وہ" خود بھی وہاں رہتے ہیں
تسلیم ہمیں ساری یہ باتیں، لیکن
یہ حضرتِ دل جانے کہاں رہتے ہیں؟

راشد ڈوگر