راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

‏سب کے باہر جگ مگ جگ مگ،اندر گھور اندھیرا ہے

‏سب کے باہر جگ مگ جگ مگ،اندر گھور اندھیرا ہے
‏سب کی راتیں چاند سے خالی، سب کا ماند سویرا ہے
‏سب کو دُکھ کے سانپ نے سونگھا، سب کے سینے گھائل ہیں
‏سب کے سُکھ پرلوک سدھارے، سب کے ساتھ لٹیرا ہے
‏سب کی جِیب پہ کڑوا کھاجا، سب کا بھوجن باسی ہے
‏سب کے تن پر مُونج کے کپڑے، سب کا گُٹھن بسیرا ہے
‏سب کی سانسیں اکھڑی اکھڑی، سب کی نیندیں اجڑی ہیں
‏سب بِسْواس میں کچے برتن، سب کو شک نے گھیرا ہے
‏سب کو سچ اور جھوٹ کے بِھیتر، کوئی انتر نہ سوجھے
‏سب کی آنکھیں رنگ کی اندھی، ہر کوئی مُوت مچھیرا ہے
‏سب کو سب ہی دُشمن سمجھیں، سب کے ساجن روٹھ گئے
‏سب ہی سب کو بِین سنائیں، ہر کوئی سانپ سپیرا ہے
‏سب کی سب ہی جانیں راشد ، تم بن کر انجان رہو
‏پیچھے مِیت کے چلتے جاؤ، اُس کا رستہ، تیرا ہے

راشد ڈوگر