سُر سے عاری شعر سے بیگانہ ہوں
عقل سے پیدل میں اک دیوانہ ہوں
رات کی تنہائی میں خود ایک بزم
اور بھری محفل میں اک ویرانہ ہوں
شمع جانیں مجھ کو پروانے مگر
جل رہا ہوں شمع کا پروانہ ہوں
متقی سمجھیں مجھے مے خوار ہے
رند دھتکاریں کہ میں فرزانہ ہوں
پکا سچا جانیں ہیں راشد کو سب
کچی پنسل سے لکھا افسانہ ہوں
راشد ڈوگر