راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

ضبط کا راز جانتا ہوں میں

ضبط کا راز جانتا ہوں میں
اور پھر دوست آشنا ہوں میں
ساری بحروں میں شعر کہتا ہوں
اپنے لفظوں کو تولتا ہوں میں
اس کی بے اعتنائی قائم ہے
ٹوٹ کر ریت ہو چلا ہوں میں
اپنی ہستی کو کھوجنے کے لئے
اپنی حد سے نکل کھڑا ہوں میں
میرے اندر کئی زمانے ہیں
گو کہ باہر سے شام سا ہوں میں
میرے دامن پہ داغ کیسے ہو؟
شرم سے اشک بن گیا ہوں میں
اپنی محفل کو خود سجاتا ہوں
اپنا ہمزاد پا چکا ہوں میں

راشد ڈوگر