اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میں
اُڑتا ہے برگِ دِل کسی بادِ خیال میں
بھرنی تھیں شب کی ناؤ میں خوابوں کی مچھلیاں
اک جل پری اُلجھ گئی پھر میرے جال میں
آئے نہ کیسے جام الُٹ دینے کا خیال!
نشّہ نہیں رہا ہے مئے ماہ و سال میں
ڈھوتا ہوں کانِ ہست سے میں کوئلہ تو کیا!
چاندی چمک رہی ہے مِرے بال بال میں!
سینے میں ہولی کھیلتی رہتی ہے آرزو
آنسو رنگے ہوئے ہیں لہو کے گلال میں
پہنا ہوا ہے صبح نے تنہائی کا لباس
لپٹی ہوئی ہے شام اُداسی کی شال میں
بڑھنے لگی عروسِ نگہ یُوں مِری طرف
سرگوشیوں کے گُل ہیں، خموشی کے تھال میں
سعید شارق