سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

اک نظر ڈالی تھی میں نے سُوکھتے اشجار پر

اک نظر ڈالی تھی میں نے سُوکھتے اشجار پر
آن بیٹھی دُھوپ میری روح کی دیوار پر
ٹوٹتے منظر کہاں بارِ دگر جُڑتے مگر
موند رکھیں اپنی آنکھیں یاد کے اصرار پر
یہ ہَوا کے دشت میں دھنستے ہوئے بوجھل قدم
روشنی ہنستی ہے میری آہ کی رفتار پر
جانے کس کی نیند پُوری ہو گئی میری جگہ!
دُھول جمتی جا رہی ہے چشمِ خواب آثار پر
دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایک کر کے جل گئیں
روٹیاں رکھّی تھیں مَیں نے آج کے اخبار پر
کرچیاں اتنی ہیں کمرے میں کہ چھپتی ہی نہیں
اور کتنی چادریں پھیلائیں اِس انبار پر!

سعید شارق