بہت اُمید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ
سو دل بھی بیٹھتا جاتا ہے اب غبار کے ساتھ
گزر رہا ہے کن انکھیوں سے دیکھتا پت جھڑ
ہمارا کوئی تعلق تو ہے بہار کے ساتھ
پٹخ چکی ہے مری ناؤ کو چٹان، مگر
میں گِر رہا ہوں ابھی تک اُس آبشار کے ساتھ
عجب نہیں کہ گِنا جائے موتیوں میں انھیں
جو خواب دیکھتا ہوں چشمِ آب دار کے ساتھ
سفر کِیا تھا کسی عمرِ جاوداں کے لیے
مگر پلٹنا پڑا شامِ انتظار کے ساتھ
شجر کا راج نہ تھا، ابر کا رواج نہ تھا
پھر ایک پُھول ملا بادِ ریگ زار کے ساتھ
کسی مدار کے دھوکے میں، بے خبر، شارقؔ
اُلجھ رہے ہیں ستارے مرے حصار کے ساتھ
سعید شارق