بہت پیاسا ہے پیڑ اور پابرہنہ چل رہا ہے
سفر کیا ختم ہو، ہمراہ صحرا چل رہا ہے!
کوئی نادیدہ کشتی رینگتی رہتی ہے دل میں
یہ مجھ سُوکھے کنویں میں کیسا دریا چل رہا ہے؟
اب اس انبوہ میں کیا راستہ دے پاؤں تجھ کو
نہ جانے اس گھڑی سینے میں کیا کیا چل رہا ہے!
مَیں اپنے آپ کا مقروض ہوتا جا رہا ہوں
اگرچہ دیکھنے میں گھر تو اچھّا چل رہا ہے
اُداسی میرا بازو پکڑے بیٹھی ہے مرے ساتھ
بھرے میلے میں اک ویران جُھولا چل رہا ہے
عجب خواہش ہے پھر تعمیر ہو جانے کی خواہش!
کہ اس کے پیچھے پیچھے میرا ملبہ چل رہا ہے
ذرا سا ہجر کا پتھر لگا تو آ گئے سب!
ہٹو، جاؤ! یہاں کوئی تماشا چل رہا ہے؟
یہ کیسا موڑ آ پہنچا ہے تیری رہ گزر میں!
مَیں تھک کے گر پڑا ہوں، میرا سایہ چل رہا ہے
سعید شارق