سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

بُجھا دِیا بھی الاؤ محسوس ہو رہا ہے

بُجھا دِیا بھی الاؤ محسوس ہو رہا ہے
ہٙوا کو میرا پڑاؤ محسوس ہو رہا ہے
یونہی سمندر کا دھیان آیا تھا بیٹھے بیٹھے
ہرا بھرا پیڑ ناؤ محسوس ہو رہا ہے
مٙیں ایک صحرا، جو دُور سے دیکھتا ہوں دریا
اور اب مجھے بھی کٹاؤ محسوس ہو رہا ہے
عجب طرح سے مجھے ثمربار کر گیا وہ
بغیر پھل کے جھکاؤ محسوس ہو رہا ہے
جو زخم تازہ لگے ہیں ان کی نہیں ہے پروا
جو مندمل ہے وہ گھاؤ محسوس ہو رہا ہے
سیاہ روزن تو مٙیں ہوں وہ تو ستارہ ٹھہرا
تو پھر مجھے کیوں کھنچاؤ محسوس ہو رہا ہے!
چھڑا چکا ہوں میں غم کے بازو سے اپنی گردن
مگر ابھی تک دباؤ محسوس ہو رہا ہے

سعید شارق