چوری چُھپے جو مِلتی رہی، برملا مِلی
تنہائی ایک دِن مجھے محفل میں آ مِلی
ہم دو تھے اور ایک نشستِ ملال تھی
وہ اُٹھ کے چل دیا تو مجھے بھی جگہ مِلی
سچ ہے: کوئی بھی شے نہیں خالِص رہی یہاں
اب خامشی بھی مِلتی ہے مجھ کو صدا مِلی
رہنے دے دشتِ دِل میں، کہِیں اور مت لگا!
مُرجھا نہ جاؤں گر نئی آب و ہوا مِلی!
مُجھ میں بچا ہوا تھا فقط ایک ہی چراغ
اور اس کی روشنی بھی اندھیرے سے جا مِلی!
ہاں! ہاں! اُسی طرح سے گُزرتے ہیں روز و شب
ہر شام چائے پیتا ہوں (لیکن دوا مِلی)
سعید شارق