سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

چیخ اُٹھّے پیڑ، کانپ گیا کوہسار تک

چیخ اُٹھّے پیڑ، کانپ گیا کوہسار تک
یُوں گُرگِ غم گھسیٹتا لایا ہے غار تک
دریائے شب کے پار گِرا ہے وہ مُرغِ خواب
کیسے پہنچ سکوں گا مَیں اپنے شکار تک!
جانے نشستِ ہست مِلے گی بھی یا نہیں!
آ تو گیا ہوں بِھیڑ بھری رہ گزار تک!
دُکھ جاتے جاتے جائے گا تنہا اُڑان کا
بالفرض مَیں پہنچ بھی گیا اپنی ڈار تک
ایسے پلک جھپکتے ہی مُرجھا گیا ہوں مَیں
ششدر ہے مجھ کو دیکھ کے ابرِ بہار تک
ہوتی ہے اپنے بعد کہِیں ابتدا مِری
تکنے کا شوق ہے تو مِرے آرپار، تک!
دیوار ہی فقط نہیں سمجھا مجھے، جہان
چسپاں کیے ہوئے ہیں کئی اشتہار تک
دِل کے بجائے مجھ میں دھڑکتی ہے اب مشین
ہر صبح پونے آٹھ سے دن ساڑھے چار تک

سعید شارق