سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

دِن کی دیوار گِری ، شب کے در و بام بنے

دِن کی دیوار گِری ، شب کے در و بام بنے
دیکھتے دیکھتے ہم لقمۂ ایّام بنے
خستگی ایسی کہ رستے ہی میں دم توڑ دیا
اشک بن تو گئے عُجلت میں مگر خام بنے
رات اور صُبح کی تصویروں کے ٹُکڑے کر دُوں
اور پھر جوڑ کے دیکھوں تو وہی شام بنے
جانے سینے میں اندھیرا تھا کہ آنکھوں میں کہِیں!
جو ستارے بھی بنے مجھ سے ، سیہ فام بنے
کیوں نہ دیوارِ سماعت پہ پٹخ دُوں، شارقؔ
اس سے پہلے کہ یہ آواز بھی کہرام بنے

سعید شارق