سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں

دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں
پھر وہی سایہ لگا ہو نہ مرے سات کہیں
اس لیے بھی تجھے ملتا ہوں میں اک اک کر کے
روند ڈالے نہ تجھے بھی مری بہتات کہیں
فاصلہ بڑھتا رہا بڑھتا رہا آخر کار
میں کہیں رہ گیا اور رہ گئے وہ ہات کہیں
پٹیاں باندھ کے رکھتا ہوں کہ ڈر لگتا ہے
کوئی سن ہی نہ لے زخموں کے سوالات کہیں
جمع ہوتا رہا ملبہ مرے اندر شارقؔ
اور سیلاب نے ڈھائے تھے مکانات کہیں

سعید شارق