در و دیوار کو بہلا بھی کہاں سکتا تھا!
کوئی آیا نہیں، خیر! آ بھی کہاں سکتا تھا!
اپنی مرضی سے میں اک خواب کے زنداں میں رہا
یہ الگ بات کہ تب جا بھی کہاں سکتا تھا!
نوچ کر آنکھیں، کہیں پھینک گیا آخرِکار
کرگسِ ہجر مجھے کھا بھی کہاں سکتا تھا!
سعید شارق