سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

دیکھ! دفتر میں ہوں، کام کا وقت ہے

دیکھ! دفتر میں ہوں، کام کا وقت ہے
یاد آنے کا یہ کون سا وقت ہے!
میرے قدموں تلے دشتِ فردا کی دُھول
میری گٹھڑی میں گُزرا ہُوا وقت ہے
وقت کیسے کٹے؟ زخم کیسے بھرے؟
زخم: نا زخم ہے، وقت: نا وقت ہے
جانے کب خُود کو بھی وقت دے پاؤں گا!
خیر! تیرے لیے،وقت تھا! وقت ہے!
دستِ آئینہ میں ہے عجب ریگِ عکس
یہ گھڑی ہے مِری! یہ مِرا وقت ہے!
اِس جگہ تو زماں کا تصوّر نہیں
تُو جہاں ہے، وہاں جانے کیا وقت ہے!

سعید شارق