سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

ہنسی کا فیصلہ یُوں کالعدم قرار دِیا

ہنسی کا فیصلہ یُوں کالعدم قرار دِیا
خُوشی مِلی تو اسے دِل نے غم قرار دِیا
عجب نظر تھی، اُچٹتی ہُوئی نظر، جِس نے
کبھی حقیر کبھی محترم قرار دِیا
یہ حسرتوں کی کنیزیں! غموں کے خواجہ سرا!
یہ کس نے دل کے محل کو حرم قرار دِیا!
وہ آنکھیں عام سہی، میں نے خاص گردانِیں
تہی گلاس کو بھی جامِ جم قرار دِیا
کبھی دُرست نہ ہونے دی زندگی کی لُغت
صحیح معنی کو سہوِ قلم قرار دِیا
کسی دوا سے بھی آتا نہیں تھا چین مُجھے
پھر اُس کے دُکھ نے مجھے ایک دم قرار دِیا
اسی لیے تو یہاں حبس اور اندھیرا ہے
وہ کم سُکون ہوا تھی، میں کم قرار دِیا
یہی مجوّزہ پرہیز ہے مجھے، شارِق
سو کیا عجب کہ محبّت کو سم قرار دِیا

سعید شارق