سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

جاڑے کی سرد سرد ہَوا میں ٹھٹھرتی شب

جاڑے کی سرد سرد ہَوا میں ٹھٹھرتی شب
ہاتھوں میں تپتے ہاتھ، لبوں پر سُلگتے لَب
کیسا نشہ ہے چُھوٹ کے بھی چُھوٹتا نہیں!
پھر مجھ کو ہو رہی ہے مئے خواب کی طلب
کُچھ تو بتا فسردگی! کیا ہو گیا تجھے؟
آیا تھا آج دل میں کوئی!۔۔کون؟ کیسے؟ کب؟
ٹھٹّھا اُڑاتی موجِ ہَوا کو یہ کیا پتا!
ملتا ہے کس دِیے سے مِری راکھ کا نسب!
کانوں پہ ہاتھ رکھّے لرزتا ہوں رات دِن
غم قہقہے لگاتا ہے، وہ بھی بلا سبب!
پہنا تھا جانے کِس لیے چشمہ شعور کا!
پہلے تو کُچھ نظر نہیں آتا تھا اور اب۔۔۔
پِھر دِل میں گِر کے جل گئیں کُچھ تازہ خواہشیں
پِھر کھا گیا ہے روٹیاں، تندور، سب کی سب!
یہ کہہ کے دُھوپ ٹُوٹ پڑی نخلِ زرد پر
بارش کا نام لیتا ہے؟ گُستاخ! بے ادب!

سعید شارق