سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

جو چیز جہاں جیسے دھری تھی وہیں چھوڑی

جو چیز جہاں جیسے دھری تھی وہیں چھوڑی
پِھر چل پڑی ہجرت کے لیے جنّتی جوڑی
اک حُکم پہ سُوئے حَبَشَہ ناؤ کو موڑا
اک حُکم پہ طیبہ کی طرف اُونٹنی موڑی
کیسے نظر انداز ہو اس پھول کا حصّہ!
خُوشبو تو زیادہ ہے بھلے عُمر ہے تھوڑی
ہستی نے چُھوئے پاؤں کہ مت جاؤ رقّیہ!
اور موت لجاجت سے پکڑتی رہی ٹھوڑی
اُس نُور کا ٹُکڑا ہے یہ مہتاب صِفَت رُخ
خُود جس کی زیارت کے لیے روشنی دوڑی
اصحاب رضی اللہ ہیں قرآن کے نزدیک
چاہے کوئی لاتا رہے اب دُور کی کوڑی
کر تذکرہء آلِ محمد کُھلے دِل سے
ممکن ہے کہ ہو جائے تری قبر بھی چوڑی

سعید شارق