سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو!

کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو!
بپھرے ہوئے عوام سے خطرہ ہے شاہ کو
پہلے تھا خوف دِل میں کسی تیغِ تیز کا
اور اب تہی نیام سے خطرہ ہے شاہ کو
جاں کی امان پاؤں تو کُچھ کہنے دیجیے:
اِس جبری احترام سے خطرہ ہے شاہ کو
تکتے ہیں کیسی خشمگیں نظروں سے دورِ جام!
خدّامِ تشنہ کام سے خطرہ ہے شاہ کو
جس طرح آگے بڑھنے لگی ہے یہ داستان
لگتا ہے اختتام سے خطرہ ہے شاہ کو
دیکھو! کوئی خمیدہ کمر سر اُٹھا نہ لے!
سجدے نہیں، قیام سے خطرہ ہے شاہ کو
کہتا ہے چیخ چیخ کے دروازہء محل:
دیوار و سقف و بام سے خطرہ ہے شاہ کو
ہم تو نمک حلال ہیں اور سگ مثال ہیں
کِس نطفہء حرام سے خطرہ ہے شاہ کو؟
کیا جانیے بھڑک اُٹھے کب کون سا چراغ!
ہر ڈھلنے والی شام سے خطرہ ہے شاہ کو
میں تو غزل سرا ہوں فقط شوقِ شعر میں
کیا مجھ سے خوش کلام سے خطرہ ہے شاہ کو!

سعید شارق