سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

کبھی خائف تھا فقط در مجھ سے

کبھی خائف تھا فقط در مجھ سے
بھاگتا پھرتا ہے اب گھر مجھ سے
مجھے مت دیکھ مرے پاس نہ آ
میں فسردہ ہوں بہت ڈر مجھ سے
لڑکھڑاتی ہوئی پھرتی ہے نگاہ
ٹوٹتے جاتے ہیں منظر مجھ سے
شام کے بوجھ سے دوہری ہے کمر
کیا اٹھے رات کا پتھر مجھ سے
میں رواں تھا کسی دریا کی طرح
ناؤ ٹکراتی رہی سر مجھ سے
متوازن نہ رہے بود و نبود
دونوں پلڑے تھے برابر مجھ سے
موجۂ گرد اٹھے گا شارقؔ
اور پلٹ جائے گا ہو کر مجھ سے

سعید شارق