سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

کہنے لگا یہ، غارِ حرا، کوہِ طُور سے:

کہنے لگا یہ، غارِ حرا، کوہِ طُور سے:
مِلنے کا اشتیاق تو ہو گا ، حضورؐ سے!
کیسے مِلائے نُور سے نظریں، یہ رُوسیاہ!
تکتا ہوں اُنؐ کا روضہ مگر دُور دُور سے
آتا ہے اب زبان پہ عجوہ کا ذائقہ
جب روزہ کھولتا ہوں کسی بھی کھجور سے
تاریک تر سہی، مِری آنکھوں کے طاقچے
روشن ہے دل، چراغِ مدینہ کے نُور سے
برسا اِک ابرِ سبز مِری شاخ شاخ پر
نخلِ بُریدہ بھر گیا، نعتوں کے بُور سے

سعید شارق