سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

کہتا ہے کوئی ہو کے بہَم: ایک قدَم اور!

کہتا ہے کوئی ہو کے بہَم: ایک قدَم اور!
بَس ایک قدَم! ایک قدَم! ایک قدَم اور!
اب کیسے بتاؤں! وہ سفَر کیسا سفَر تھا!
رکھّا تھا سَرِ دشتِ عدَم، ایک قدَم، اور۔۔۔
ہَٹتا ہوں اگر ایک قدَم پیچھے کی جانِب
بَڑھتا ہے مری سمت وہ غَم ایک قدَم اور
یکساں نظَر آتے ہیں مگر کِتنے الگ ہیں!
ہر خواب کا نَم ایک، ورَم ایک، قدَم اور
آگے وہی صحرا تھا، وہی پیاس تھی، شارِق
رکھنے کو تو رکھ سکتے تھے ہم ایک قدَم اور

سعید شارق