سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

خود ہی گرفتِ غم سے خوشی چُھوٹ جائے گی

خود ہی گرفتِ غم سے خوشی چُھوٹ جائے گی
گریہ کروں گا اور ہنسی چُھوٹ جائے گی
ہاتھوں میں اتنی رسّیاں تھامے ہوئے ہوں میں
چھوڑوں گا کوئی اور کوئی چُھوٹ جائے گی
دِل ہی سے آ کے لگتی ہے یہ رہ گُزار بھی
گھر چھوڑ دُوں تو خُود ہی گلی چُھوٹ جائے گی
وہ پیڑ بھی نہ توڑنے دے گا ثمر مجھے
یہ شاخ بھی سرکتی ہوئی چُھوٹ جائے گی
آزاد کر رہا ہوں میں زنجیرِ خواب کو
جو رہ گئی ہے وہ بھی کڑی، چُھوٹ جائے گی
مچھلی کی طرح تیرتی رہتی ہے دِل میں یاد
ہاتھ آئے گی یونہی تو یونہی چُھوٹ جائے گی
اک روز سیکھ لوں گا میں چلنا ترے بغیر
اک روز ہاتھ سے یہ چھڑی چُھوٹ جائے گی
بیٹھا ہُوا ہوں کب سے زمانے کی ریل میں
لگتا ہے پھر بھی جیسے ابھی چُھوٹ جائے گی

سعید شارق