کِس ابرِ رَواں کے سَر گئے ہیں!
وہ نالے جو بے اَثَر گئے ہیں
دیکھا ہے بہ غور جانے کِس نے!
تصویر کے زَخْم بَھر گئے ہیں
میں اور زمیں میں دھنس گیا ہوں
گَو قافلے تو گُزر گئے ہیں
یہ سانحہ، سانحہ کہاں ہے!
دِن رات یونہی ٹھہر گئے ہیں
اَخبار چھَپا ہُوا ہے دِل پَر
کہنے کو تو بے خَبَر گئے ہیں
گاڑی میں بیٹھے بیٹھے، شارِق
ہم دُور کہِیں اُتر گئے ہیں
سعید شارق