سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

کیسے شہروں کو فنا کرتا ہوا گزرا تھا

کیسے شہروں کو فنا کرتا ہوا گزرا تھا
میرے سینے سے کبھی دشت بلا گزرا تھا
ایک پتھر تھا فقط مجھ کو کچلنے کے لیے
ایک لمحہ تھا جو اوروں سے جدا گزرا تھا
دھول کس وقت کی ہے یہ تو نہیں ہے معلوم
بس یہی یاد ہے اک قافلہ سا گزرا تھا
اک نظر پڑتے ہی دو لخت ہوا خواب مرا
کیسا شہکار تھا اور کتنا گیا گزرا تھا
یہ سلگتی ہوئی شاخیں یہ جھلستے ہوئے پھول
موجۂ آہ تھا جو مثل ہوا گزرا تھا

سعید شارق