مجھ میں جتنے بھی ترے شہر ہیں، برباد کروں!
سوچتا ہوں کہ نئی بستیاں آباد کروں
چُپ ہی بیٹھا رہے، مجھ پر کوئی پھبتی نہ کَسے
میرے بس میں ہو تو وہ آئنہ ایجاد کروں
قفسِ دِل میں جگہ ایک ہی طائر کی ہے
مَیں کسے قید کروں اور کسے آزاد کروں!
خُود سے چُھپ کر تجھے سونپ آیا کلیدِ زنداں
اور کس طرح بھلا مَیں تری امداد کروں!
نخلِ غم کے لیے ناکافی رہا ہجر ترا
کیوں نہ اس کے لیے تیّار نئی کھاد کروں!
وقت کی گاچنی ملتی ہی نہیں ہے مجھ کو
کون سی تختی پہ لکھ کر مَیں تجھے یاد کروں!
سعید شارق