منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھری
زنبیلِ چشم یوں بھی تو بھرنا ہی تھی، بھری
تنہائی کے سفر پہ نکلنے سے پیشتر
بکسے میں اپنی اور تمھاری کمی بھری
خالی کبھی نہ رہنے دیا ساغرِ وصال
جی بھر گیا تو میں نے مئے تشنگی بھری
کھولا اُسے تو حالتِ دل یاد آ گئی
بس یوں ہی لگ رہی تھی وہ گٹھڑی بھری بھری
کیوں مل سکی نہ مدرسہء ہست سے سند!
ہر امتحان پاس کیا، فیس بھی بھری
آساں کہاں تھا وقت کے سکّے سنبھالنا!
اک عُمر میں یہ چھید بھری پوٹلی بھری
یہ بھی گزشتہ شام کا بہروپ ہی نہ ہو!
ورنہ سحر، اور اس قدر افسردگی بھری؟
کیسا سراب ہے مری بنجر زمین پر!
اِک فصل تکتا رہتا ہوں وہ بھی ہری بھری
سعید شارق