سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

قطرہ قطرہ نمِ نادیدہ اُتر جانے دِیا

قطرہ قطرہ نمِ نادیدہ اُتر جانے دِیا
میں نے پیمانۂ افسردگی بھر جانے دِیا
اک شجر سے یہ توقع تھی کہ روکے گا مجھے
اور اس نے بھی مجھے لوٹ کے گھر جانے دِیا
میرا جانا بھی ضروری تھا مگر سائے نے
صرف سائے کو سرِ راہ گزر جانے دِیا
مجھے اندازہ تھا مَیں تھوڑا بہت ہوں اُس میں
سو اُسے جمع کِیا، خود کو بکھر جانے دِیا
ایک شب روک دی اشکوں کی رسَد چپکے سے
اور بیمار پڑی یاد کو مر جانے دِیا
اس تذبذب نے گھٹا رکھّی ہے رفتار مری
پھر کہاں جاؤں گا مَیں؟ اُس نے اگر جانے دِیا!

سعید شارق