سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!

راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!
شعلۂ ہستِ بے نمود! کیا یہ ترا زیاں نہیں؟
کون سُنے گا وقت اور جسم کا یہ مکالمہ:-
’’زخم کوئی بھرا؟‘‘ نہیں! : ’’ختم ہُوا نشاں؟‘‘ نہیں!
مہر بہ لب ہے شاخ شاخ، سایہ اُداس اُداس ہے
برگدِ خواب کے تلے، کوئی بھی کارواں نہیں
دیکھتے دیکھتے اُڑی، دِل کی فضا میں اک پری
جانے وہ پھر کدھر گئی! (اور، یہ داستاں نہیں)
میرے جُھلسنے سے ذرا تیز تو ہو گئی یہ لَو
ہوں تو مَیں رائگاں مگر، ایسا بھی رائگاں نہیں!
کیسے کہوں یہاں ہے تُو! کیسے کہوں وہاں ہے تُو!
کہنے کو اب کہاں ہے تُو! پھر بھی کہاں کہاں نہیں!
روتے ہیں لوگ زار زار، مَلتے ہیں آنکھیں بار بار
یہ تو نہیں ہے وہ زمیں! یہ تو وہ آسماں نہیں !

سعید شارق