رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دیے
میں نے بھی کتنے دُکھ در و دیوار کو دیے!
ٹُوٹا پڑا تھا نیند کا دھاگا مِری طرح
سو میں نے اس میں خواب کے موتی پرو دیے
چہروں کی بِھیڑ کاٹتی گُزری مِری نگاہ
اور آتے آتے اُس کے خد و خال کھو دیے
پھر بھی میں تیری یاد نہ کر پایا زیبِ تن
ہر چند اس قبا کے سبھی داغ دھو دیے
اپنا بھی غم منایا ترے غم کے ساتھ ساتھ
اک طاق میں جلانا پڑے مجھ کو دو دِیے
پل بھر کو روشنی سی نظر آئی تھی کہ پِھر
اک شب نے میری آنکھوں میں ناخُن کھبو دیے
سعید شارق