سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

رنج کی بپھری ہوئی لہروں سے لڑتا رہا مَیں

رنج کی بپھری ہوئی لہروں سے لڑتا رہا مَیں
دل کے ساحل پہ کہیں بنتا / بگڑتا رہا مَیں
ایسا تنہا تھا کہ دو پَل کی رفاقت کے لیے
اپنی تنہائی کے بھی پاؤں پکڑتا رہا مَیں
تیرے جاتے ہی مَیں اک سائے سے آباد ہُوا
اور بہت بار ہُوا ، یعنی اُجڑتا رہا مَیں
کبھی منظر، کبھی چہرے، کبھی آنسو، کبھی خواب
کتنی لاشیں تھیں جو دو قبروں میں گڑتا رہا مَیں
جانے کس بات کا صدمہ تھا،(نہیں! اُس کا نہیں)
کبھی خود سے کبھی اوروں سے جھگڑتا رہا مَیں
مجھ کو اندر سے جکڑتا رہا اک دروازہ
اور دروازے کو باہر سے جکڑتا رہا مَیں
کیسے کہتا کہ اب اسکیچ نہیں بنتا مجھ سے
توڑ کر سکّے یونہی پنسلیں گھڑتا رہا مَیں
دم بہ دم ، ہجر کا غم ، چاٹ گیا سارا نم
خشک مٹّی کی طرح راہ میں جھڑتا رہا مَیں
جانے کس ہاتھ لگا ، کون سا دھاگہ، شارقؔ
اک سِرا کھنچتا رہا اور اُدھڑتا رہا مَیں

سعید شارق